مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ عَوَامِرِ الْبُيُوتِ . باب: گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 6133
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ قَتْلِ حَيَّاتِ الْبُيُوتِ إِلَّا الْأَبْتَرَ ، وَذَا الطُّفْيَتَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا يَخْطِفَانِ - أَوْ يَطْمِسَانِ - الْبَصَرَ ، وَيَطْرَحَانِ الْحَمْلَ مِنْ بُطُونِ النِّسَاءِ ، وَمَنْ تَرَكَهُمَا فَلَيْسَ مِنَّا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں موجود سانپوں کو مارنے سے منع کیا ہے البتہ دم کٹے کا اور دو دھاری والے کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ وہ دونوں بینائی کو ضائع کر دیتے ہیں اور خواتین کے پیٹ میں موجود حمل کو ضائع کر دیتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے : ) جو شخص ان دونوں کو چھوڑ دے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔