مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ . باب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
وَعَنْ سَرَّاءَ بِنْتِ نَبْهَانَ الْغَنَوِيَّةُ قَالَتْ : سَأَلَ نُصَيْبٌ غُلَامُنَا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَيَّاتِ مَا يُقْتَلُ مِنْهَا ؟ قَالَتْ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " اقْتُلُوا مَا ظَهَرَ مِنْهَا كَبِيرَهَا وَصَغِيرَهَا ، أَسْوَدَهَا ، وَأَبْيَضَهَا ، فَإِنَّ مَنْ قَتَلَهَا مِنْ أُمَّتِي كَانَتْ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ وَمَنْ قَتَلَتْهُ كَانَ شَهِيدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْغَسَّانِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدہ سراء بنت نبھان غنویہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ہمارے ایک غلام نصیب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سانپوں کے بارے میں دریافت کیا کہ ان میں سے کس کو مارا جائے ؟ وہ خاتون بیان کرتی ہیں تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ان میں سے جو بھی ظاہر ہوتا ہے اسے مار دو ! خواہ وہ بڑا ہو چھوٹا ہو یا سفید ہو کیونکہ میری امت میں سے جو شخص اسے مارے گا تو یہ اس کے لئے جہنم سے فدیہ بن جائے گا اور جسے وہ ( سانپ ) مار دے گا تو وہ شخص شہید ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن حارث غسانی ہے اور وہ متروک ہے ۔