مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ . باب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ قَالَ : بَيْنَمَا ابْنُ مَسْعُودٍ يَخْطُبُ ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا هُوَ بِحَيَّةٍ تَمْشِي عَلَى الْجِدَارِ فَقَطَعَ خُطْبَتَهُ ، ثُمَّ ضَرَبَهَا بِقَضِيبِهِ أَوْ بِقَصَبَةٍ - قَالَ يُونُسُ : بِقَصَبَتِهِ - حَتَّى قَتَلَهَا ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَكَأَنَّمَا قَتَلَ [ رَجُلًا ] مُشْرِكًا قَدْ حَلَّ دَمُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَرْفُوعًا ، وَمَوْقُوفًا ، قَالَ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثِهِ ، وَهُوَ مَرْفُوعٌ : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً أَوْ عَقْرَبًا " . وَهُوَ فِي مَوْقُوفِ الطَّبَرَانِيِّ . وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوا حوص جشمی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اسی دوران دیوار پر ایک سانپ چلتا ہوا نظر آیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ درمیان میں چھوڑا اور پھر لاٹھی کے ذریعے یا چھڑی کے ذریعے اسے مار کر قتل کر دیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” جس شخص نے سانپ کو مارا ، اُس نے گویا کسی ایسے مشرک شخص کو قتل کیا جس کا خون بہانا حلالی تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرفوع “ اور ” موقوف “ ( دونوں طرح سے نقل کی ہے ) امام بزار نے اپنی روایت میں یہ کہا: ہے کہ یہ ” مرفوع “ ہے : ” جس شخص نے سانپ یا بچھو کو قتل کیا “ ۔ تو امام طبرانی کی روایت میں یہ ” موقوف “ ہے امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔