حدیث نمبر: 6115
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَيَّةَ فَقَالَ : " خُلِقَتْ هِيَ وَالْإِنْسَانُ سَوَاءً ، فَإِنْ رَأَتْهُ أَفْزَعَتْهُ ، وَإِنْ لَدْغَتْهُ أَوْجَعَتْهُ ، فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَابِرٌ غَيْرُ مُسَمًّى ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ : أَحْمَدُ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ سانپ کا ذکر کیا آپ نے ارشاد فرمایا : اسے اور انسان کو برابر پیدا کیا گیا ہے اگر یہ انسان کو دیکھتا ہے ، تو اسے خوف زدہ کر دیتا ہے اگر اسے ڈس لے تو اسے تکلیف پہنچاتا ہے ، تو تم جہاں بھی اس کو پاؤ اسے مار دو“ ۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ جابر جعفی ہے سفیان ثوری اور شعبہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ائمہ نے یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف