مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ قَتْلِ الْحَيَّاتِ وَالْحَشَرَاتِ . باب: سانپ اور حشرات الارض کو مار دینا
حدیث نمبر: 6114
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَتَلَ حَيَّةً فَلَهُ سَبْعُ حَسَنَاتٍ ، وَمَنْ قَتَلَ وَزَغًا فَلَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ تَرَكَ حَيَّةً مَخَافَةَ عَاقِبَتِهَا فَلَيْسَ مِنَّا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْمُسَيَّبَ بْنَ رَافِعٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص سانپ کو مار دیتا ہے اسے سات نیکیاں ملتی ہیں جو شخص چھپکلی کو مار دیتا ہے اسے ایک نیکی ملتی ہے اور جو شخص سانپ اس اندیشے کے تحت چھوڑ دیتا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا تو وہ ہم میں سے نہیں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ مسیب بن رافع نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔