مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْهِرِّ . باب: بلی کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6113
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْهِرُّ سَبُعٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ تَرَاهُ قَبْلَ هَذَا . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الطَّهَارَةِ : الْوُضُوءُ بِفَضْلِهَا ، وَأَنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجِسٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بلی درندہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔ اس سے پہلے ایک حدیث گزر چکی ہے ، جسے آپ نے اس سے پہلے ملاحظہ فرمایا ہے ۔ اس سے پہلے طہارت سے متعلق باب میں پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ بلی کے بچائے ہوئے پانی سے وضو کیا جا سکتا ہے اور وہ نجس نہیں ہوتی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔