مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ذَمِّ الْكَذِبِ . باب: جھوٹ کی مذمت کا بیان
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : مَا كَانَ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْكَذِبِ ، وَمَا اطَّلَعَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ فَيَخْرُجُ مِنْ قَلْبِهِ حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ تَوْبَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : لَمْ يَكُنْ مِنْ خُلُقٍ أَبْغَضَ إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : کوئی بھی عادت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی ۔ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی شخص کے حوالے سے جھوٹ پر مطلع ہوتے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص سے ناراض رہتے ، جب تک آپ کو یہ علم نہیں ہو جاتا کہ اب اس نے توبہ کر لی ہے ( اور وہ آئندہ ایسا نہیں کرے گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے نزدیک کوئی بھی عادت ( جھوٹ سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں تھی ) ۔ “
یہ روایت بھی امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند صحیح ہے ۔