مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي ذَمِّ الْكَذِبِ . باب: جھوٹ کی مذمت کا بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ قَالَتْ إِحْدَانَا لِشَيْءٍ تَشْتَهِيهِ : لَا أَشْتَهِيهِ يُعَدُّ ذَلِكَ كَذِبًا ؟ قَالَ : " إِنَّ الْكَذِبَ يُكْتَبُ كَذِبًا حَتَّى تَكْتُبَ الْكُذَيْبَةُ كُذَيْبَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَفِي إِسْنَادِهِ أَبُو شَدَّادٍ عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ فِي الْمِيزَانِ : لَمْ يَرْوِ عَنْهُ سِوَى ابْنِ جُرَيْجٍ . قُلْتُ : قَدْ رَوَى عَنْهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمُسْنَدِ ، فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَةُ . ¤سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی عورت کسی چیز کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ اُسے اس چیز کی خواہش محسوس ہو رہی ہے ، حالانکہ اسے اس چیز کی خواہش محسوس نہ ہو رہی ہو ، تو کیا یہ چیز بھی جھوٹ شمار کی جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جھوٹ کو جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ، یہاں تک کہ چھوٹے جھوٹ کو چھوٹا جھوٹ نوٹ کیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : ابوشداد نے مجاہد سے یہ روایت نقل کی ہے ، مصنف کتاب “” “” میزان “” “” میں یہ فرماتے ہیں : اس کے حوالے سے ابن جریج کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یونس بن یزید ایلی نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، جو ” مسند “ میں مذکور ہے ، تو اس کا مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔