مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِلَابِ . باب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْتُلَ الْكِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُ الْكِلَابَ فَلَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ بِبَيْتٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ ؟ قُلْتُ : أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ هَذَا الْكَلْبَ . قَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ مُضَيَّعَةٌ ، وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَطْرُدُ عَنِّيَ السَّبُعَ وَيُؤْذِنُنِي بِإِلْجَائِي ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں کتوں کو مار دوں میں نکلا اور کتوں کو مارنے لگا میں نے جو بھی کتا دیکھا اسے قتل کر دیا ایک کتا ایک گھر کے گرد چکر لگا رہا تھا میں اسے قتل کرنے لگا تو اس گھر کے اندر سے کسی انسان نے مجھے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندے ! تم کیا کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے جواب دیا میں اس کتے کو مارنا چاہتا ہوں اس عورت نے کہا: میں ایک بوڑھی عورت ہوں ، یہ کتا مجھ سے درندوں کو دور رکھتا ہے اور آنے والے کے بارے میں ( بھونک کر ) مجھے بتا دیتا ہے ، پھر سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔