مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكِلَابِ . باب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، اقْتُلْ كُلَّ كَلْبٍ " . قَالَ : فَوَجَدْتُ نِسْوَةً مِنَ الْأَنْصَارِ بِالصُّورَيْنِ مِنَ الْبَقِيعِ لَهُنَّ كَلْبٌ ، فَقُلْنَ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَزَّ رِحَالَنَا ، وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَمْنَعُنَا نَفِدُ إِلَيْهِ وَاللَّهِ مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَنَا حَتَّى تَقُومَ امْرَأَةٌ مِنَّا فَتَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، فَاذْكُرْهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو رَافِعٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، اقْتُلْهُ ، فَإِنَّمَا يَمْنَعُهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابورافع ! تم ہر کتے کو مار دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انصار کی کچھ خواتین کو بقیع کے پاس پایا ، ان کا ایک کتا تھا ان خواتین نے کہا: اے ابورافع! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ہمارے گھروں کو) بے نیاز فرما دیا ہے (یا سامان کی کفایت کی ہے) اور یہ کتا ہمارے لیے رکاوٹ بنتا ہے ، اللہ کی قسم ! کوئی بھی شخص ہمارے پاس نہیں آ سکتا اس کے آنے سے پہلے ہم میں سے کوئی ایک عورت اٹھ کر چلی جاتی ہے اور اس کتے کے اور آنے والے کے درمیان حائل ہو جاتی ہے تم اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرو۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابورافع ! تم اسے قتل کر دو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان ( خواتین ) کی حفاظت کرے گا ۔