حدیث نمبر: 6096
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِدَاءَهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الْبَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَذِنَّا لَكَ " . قَالَ : " أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا صُورَةٌ " . فَوَجَدُوا جِرْوًا فِي بَعْضِ بُيُوتِهِمْ . قَالَ أَبُو رَافِعٍ : فَأَمَرَنِي حِينَ أَصْبَحْتُ ، فَلَمْ أَدَعْ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَاصِيَةٍ لَهَا كَلْبٌ يَنْبَحُ عَلَيْهَا ، فَرَحِمْتُهَا ، وَتَرَكْتُهُ ، وَجِئْتُ ، فَأَمَرَنِي ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْكَلْبِ ، فَقَتَلْتُهُ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اندر آنے کے لئے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی انہیں اندر آنے میں تاخیر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لی اور اٹھ کر ان کی طرف چلے گئے وہ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم نے تمہیں اجازت دے دی تھی ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس میں کتا یا تصویر موجود ہو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک کتے کے پلے کو پایا ۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ مجھے جو بھی کتا ملے میں اسے قتل کر دوں ایک عورت جو آبادی سے ہٹ کے رہتی تھی اس کا ایک کتا تھا جو اس کی حفاظت کے لئے بھونکا کرتا تھا مجھے اس عورت پر رحم آیا میں نے اس کتے کو چھوڑ دیا میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں کتے کی طرف واپس گیا اور میں نے اسے مار دیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے جو اس مخصوص قسم کے جانور کو مارنے سے منع کیا ہے اس میں سے ہمارے لئے کون سا حلال ہے ؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال قرار دی گئی ہے ؟ تم یہ فرما دو ! تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6096
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (972 مطولا و 971 مختصرا) ورواه الحاكم فى المستدرك (311/2)»