کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کتوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 6094
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، اقْتُلْ كُلَّ كَلْبٍ " . قَالَ : فَوَجَدْتُ نِسْوَةً مِنَ الْأَنْصَارِ بِالصُّورَيْنِ مِنَ الْبَقِيعِ لَهُنَّ كَلْبٌ ، فَقُلْنَ : يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَزَّ رِحَالَنَا ، وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَمْنَعُنَا نَفِدُ إِلَيْهِ وَاللَّهِ مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ أَنْ يَأْتِيَنَا حَتَّى تَقُومَ امْرَأَةٌ مِنَّا فَتَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ ، فَاذْكُرْهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَ ذَلِكَ أَبُو رَافِعٍ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، اقْتُلْهُ ، فَإِنَّمَا يَمْنَعُهُنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابورافع ! تم ہر کتے کو مار دو ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے انصار کی کچھ خواتین کو بقیع کے پاس پایا ، ان کا ایک کتا تھا ان خواتین نے کہا: اے ابورافع! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ہمارے گھروں کو) بے نیاز فرما دیا ہے (یا سامان کی کفایت کی ہے) اور یہ کتا ہمارے لیے رکاوٹ بنتا ہے ، اللہ کی قسم ! کوئی بھی شخص ہمارے پاس نہیں آ سکتا اس کے آنے سے پہلے ہم میں سے کوئی ایک عورت اٹھ کر چلی جاتی ہے اور اس کتے کے اور آنے والے کے درمیان حائل ہو جاتی ہے تم اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کرو۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابورافع ! تم اسے قتل کر دو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان ( خواتین ) کی حفاظت کرے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6094
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1227) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (927) اخرجه احمد فى المسند (9/6)»
حدیث نمبر: 6095
وَفِي رِوَايَةٍ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْتُلَ الْكِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُ الْكِلَابَ فَلَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ بِبَيْتٍ فَأَرَدْتُ أَنْ أَقْتُلَهُ ، فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ ؟ قُلْتُ : أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ هَذَا الْكَلْبَ . قَالَتْ : إِنِّي امْرَأَةٌ مُضَيَّعَةٌ ، وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَطْرُدُ عَنِّيَ السَّبُعَ وَيُؤْذِنُنِي بِإِلْجَائِي ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، رِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ میں کتوں کو مار دوں میں نکلا اور کتوں کو مارنے لگا میں نے جو بھی کتا دیکھا اسے قتل کر دیا ایک کتا ایک گھر کے گرد چکر لگا رہا تھا میں اسے قتل کرنے لگا تو اس گھر کے اندر سے کسی انسان نے مجھے پکار کر کہا: اے اللہ کے بندے ! تم کیا کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے جواب دیا میں اس کتے کو مارنا چاہتا ہوں اس عورت نے کہا: میں ایک بوڑھی عورت ہوں ، یہ کتا مجھ سے درندوں کو دور رکھتا ہے اور آنے والے کے بارے میں ( بھونک کر ) مجھے بتا دیتا ہے ، پھر سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6095
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (391/6)»
حدیث نمبر: 6096
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ : جَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَذِنَ لَهُ فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رِدَاءَهُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ ، وَهُوَ قَائِمٌ فِي الْبَابِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَدْ أَذِنَّا لَكَ " . قَالَ : " أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا صُورَةٌ " . فَوَجَدُوا جِرْوًا فِي بَعْضِ بُيُوتِهِمْ . قَالَ أَبُو رَافِعٍ : فَأَمَرَنِي حِينَ أَصْبَحْتُ ، فَلَمْ أَدَعْ كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ ، فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٍ قَاصِيَةٍ لَهَا كَلْبٌ يَنْبَحُ عَلَيْهَا ، فَرَحِمْتُهَا ، وَتَرَكْتُهُ ، وَجِئْتُ ، فَأَمَرَنِي ، فَرَجَعْتُ إِلَى الْكَلْبِ ، فَقَتَلْتُهُ ، فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اندر آنے کے لئے اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی انہیں اندر آنے میں تاخیر ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لی اور اٹھ کر ان کی طرف چلے گئے وہ دروازے پر کھڑے ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہم نے تمہیں اجازت دے دی تھی ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! لیکن ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے ہیں جس میں کتا یا تصویر موجود ہو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ایک کتے کے پلے کو پایا ۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا کہ مجھے جو بھی کتا ملے میں اسے قتل کر دوں ایک عورت جو آبادی سے ہٹ کے رہتی تھی اس کا ایک کتا تھا جو اس کی حفاظت کے لئے بھونکا کرتا تھا مجھے اس عورت پر رحم آیا میں نے اس کتے کو چھوڑ دیا میں آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا میں کتے کی طرف واپس گیا اور میں نے اسے مار دیا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے جو اس مخصوص قسم کے جانور کو مارنے سے منع کیا ہے اس میں سے ہمارے لئے کون سا حلال ہے ؟ تو اللہ تعالی نے یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لئے کیا چیز حلال قرار دی گئی ہے ؟ تم یہ فرما دو ! تمہارے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6096
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (972 مطولا و 971 مختصرا) ورواه الحاكم فى المستدرك (311/2)»
حدیث نمبر: 6097
وَعَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ جَدَّتَهُ سَلْمَى أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ إِلَى بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ يَزِيدَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ، وَبَعَثَ رَجُلًا آخَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبیداللہ بن علی بیان کرتے ہیں : ان کی دادی سیدہ سلمی رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو بنوامیہ بن یزید کی طرف بھیجا تاکہ وہ کتوں کو مار دیں آپ نے ایک اور شخص کو کتوں کو مارنے کے حکم کے ساتھ ( کسی اور طرف ) سے بھیجا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6097
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (299/24)»
حدیث نمبر: 6098
وَعَنْ جَابِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِلَابِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُقْتَلَ ، فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ ، فَقَالَ : إِنَّ مَنْزِلِي شَاسِعٌ ، وَلِي كَلْبٌ ، فَرَخَّصَ لَهُ أَيَّامًا ، ثُمَّ أَمَرَ بِقَتْلِ كَلْبِهِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ صَحِيحٌ خَلَا الرُّخْصَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے کتوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ انہیں قتل کر دیا جائے سیدنا عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے ۔ انہوں نے عرض کی : میرا گھر دور ہے میرا ایک کتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چند دن تک رخصت دی پھر آپ نے ان کے کتے کو بھی مار دینے کا حکم دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تا ہم اس میں رخصت کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6098
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1804 و 1886 و 2072) اخرجه احمد فى المسند (326/3)»
حدیث نمبر: 6099
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَتْلِ كِلَابِ الْعَيْنِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيَّ - ، وَإِنْ كَانَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ - لَمْ يَثْبُتْ لَهُ مِنْهَا سَمَاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی آنکھوں والے کتوں کو مارنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابراہیم نخعی اگرچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں لیکن ان کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع ثابت نہیں ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6099
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (109/6)»
حدیث نمبر: 6100
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِ كُلِّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ ، فَاقْتُلُوا الْمُعَيَّنَةَ مِنَ الْكِلَابِ ، فَإِنَّهَا الْمَلْعُونَةُ مِنَ الْجِنِّ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اگر کتے مخصوص قسم کی ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں ہر کالے سیاہ کتے کو مار دینے کا حکم دیتا البتہ کتوں میں سے تم بڑی آنکھوں والوں کو مار دو ! کیونکہ وہ ملعون ہیں ، اور جنات سے تعلق رکھتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6100
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (2442) اخرجه الطبرانى فى المعجم الكبير (11979)»
حدیث نمبر: 6101
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اقْتُلُوا الْكِلَابَ " . فَقَالَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا تَنْفَعُنَا إِنَّهَا تَكُونُ فِي غَنَمِنَا ، وَزَرْعِنَا ؟ قَالَ : " فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْبَهِيمَ " . ¤ وَالْبَهِيمُ الَّذِي تَقُولُ النَّاسُ : إِنَّهُ الْجِنُّ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا سَعِيدَ بْنَ بَحْرٍ شَيْخَ الْبَزَّارِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : تم لوگ کتوں کو مار دو اہل مدینہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ہمیں نفع دیتے ہیں یہ ہماری بھیڑ بکریوں میں اور ہمارے کھیتوں میں ( حفاظت کا کام کرتے ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان میں سے اس کو مار دو جو بہیم ( جس کا رنگ مکمل کالا ہو ) ۔ بہیم کے بارے میں لوگ یہ کہتے ہیں : وہ جن ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن بحر کا معاملہ مختلف ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے میں نے اس کے حالات بیان کرتے ہوئے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6101
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1228)»
حدیث نمبر: 6102
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا ، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر کتے مخصوص قسم کی مخلوق نہ ہوتے تو میں انہیں مار دینے کا حکم دیتا البتہ تم ان میں سے ہر کالے سیاہ کتے کو مار دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6102
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6103
وَعَنْ أُسَامَةَ - يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ - قَالَ : دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ ، فَقُلْتُ : مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي ، وَلَمْ يَأْتِنِي مُنْذُ ثَلَاثٍ " . فَإِذَا كَلْبٌ قَالَ أُسَامَةُ : فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى رَأْسِي فَصِحْتُ ! فَقَالَ : " مَا لَكَ ؟ " . فَقُلْتُ : كَلْبٌ ! فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُتِلَ ، ثُمَّ أَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَقَالَ : " مَا لَكَ لَمْ تَأْتِنِي ؟ وَكُنْتَ إِذَا وَعَدْتَنِي لَمْ تُخْلِفْنِي ؟ " . فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ ، وَلَا تَصَاوِيرُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ يَأْتِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ پریشان تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جبرائیل نے میرے پاس آنے کا مجھ سے وعدہ کیا تھا لیکن وہ تین دن سے میرے پاس نہیں آئے وہاں ایک کتا موجود تھا سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا اور آواز نکالی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہو ہے ؟ میں نے عرض کی : کتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے مار دیا گیا پھر سیدنا جبرائیل آپ کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے کہ تم میرے پاس نہیں آئے جبکہ تم نے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا اور تم نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ، تو انہوں نے عرض کی : ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصاویر موجود ہوں“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور سند کے ساتھ یہ روایت منقول ہے ، جسے امام أحمد نے عمدہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے وہ روایت آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6103
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید
حدیث نمبر: 6104
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو غَالِبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا موجود ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوغالب ہے اور وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6104
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 6105
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيُّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ” فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا موجود ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبداللہ ازدی ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6105
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6106
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْن عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ النَّضِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی ایسا کتا پالے جو شکار کرنے کے لئے یا جانوروں ( کی حفاظت ) کے لئے نہ ہو ، تو اس شخص کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نضر بن عبداللہ ازدی ہے اور وہ مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6106
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6107
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بُجَيْرُ بْنُ أَبِي بُجَيْرٍ قَالَ الْمِزِّيُّ - عَقِبَ حَدِيثٍ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِهِ - : وَهُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي رَافِعٍ مَا يَحِلُّ لَنَا مِنْ هَذِهِ الْأَمَةِ الَّتِي أَمَرْتَ بِقَتْلِهَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ ، الْآيَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کوئی ایسا کتا رکھے ، جو شکار کے لئے نہ ہو یا جانوروں ( کی حفاظت ) کے لئے نہ ہو ، تو اس کے عمل میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بجیر بن ابوبجیر ہے مزی اس حدیث کے بعد فرماتے ہیں : انہوں نے اسے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث پہلے گزر چکی ہے : ( لوگوں نے کہا: ) کہ اس امت میں سے ، جس کے بارے میں آپ نے قتل کرنے کا حکم دیا ہے ان میں سے ہمارے لئے کیا چیز حلال ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” لوگ تم سے دریافت کرتے ہیں ان کے لئے کیا چیز حلال قرار دی گئی ہے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6107
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2808)»
حدیث نمبر: 6108
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ مَاشِيَةٍ ، أَوْ كَلْبِ صَيْدٍ انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ سَلَّامُ بْنُ أَبِي خُبْزَةَ ، وَهُوَ وَضَّاعٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص نے کتا رکھا ہوا ہو جو جانوروں ( کی حفاظت ) کے لئے نہ ہو یا شکار کا کتا نہ ہو ، تو اس شخص کے اجر میں سے دو قیراط روزانہ کم ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام بن ابوخبزہ ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا فرد ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6108
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5025)»
حدیث نمبر: 6109
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ شَيْطَانٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کالا سیاہ کتا ، شیطان ہوتا ہے “ ۔ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6109
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (157/6)»
حدیث نمبر: 6110
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهِ الْكَآبَةُ فَسَأَلْتُهُ مَا لَهُ ؟ فَقَالَ : " لَمْ يَأْتِنِي جِبْرِيلُ مُنْذُ ثَلَاثٍ " . فَإِذَا جَرْوُ كَلْبٍ بَيْنَ بُيُوتِهِ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ فَبَدَا لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَهَشَّ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ رَآهُ فَقَالَ : لَمْ تَأْتِنِي " . فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ِفي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الطَّبَرَانِيِّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ پریشان لگ رہے تھے میں نے آپ سے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : جبرائیل تین دن سے میرے پاس نہیں آئے ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ایک کتے کا پلا آپ کے گھر میں موجود تھا ، آپ کے حکم کے تحت اسے مار دیا گیا سیدنا جبرائیل آپ کے سامنے آئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف لپکے جب آپ نے انہیں دیکھا آپ نے دریافت کیا : تم میرے پاس کیوں نہیں آئے ۔ انہوں نے عرض کی : ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصاویر موجود ہوں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ طبرانی کی نقل کردہ حدیث اس سے پہلے ضعیف سند کے ساتھ گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6110
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (203/5)»
حدیث نمبر: 6111
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : احْتَبَسَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " مَا حَبَسَكَ ؟ " . فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدنا جبرائیل علیہ السلام نہیں آئے ( جب وہ آئے ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : ہم کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا موجود ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6112
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، [ سُبْحَانَ اللَّهِ ] تَأْتِي دَارَ قَوْمٍ ، وَلَا تَأْتِي دَارَنَا ؟ ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا " . قَالُوا : فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ إِنَّ ] السِّنَّوْرَ سَبُعٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک محلے میں تشریف لائے ان سے پہلے والا جو محلہ تھا وہاں کے لوگوں کو یہ بات بہت گراں گزری ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سبحان اللہ آپ ان لوگوں کے محلے میں آ گئے ہیں اور ہمارے محلے میں نہیں آئے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے محلے میں کتا موجود ہے لوگوں نے عرض کی : ان کے محلے میں بھی بلی موجود ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بلی درندہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسیب ہے ، جسے ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (327/2)»