مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْ قَتْلِهِ مِنَ النَّمْلِ ، وَالضِّفْدَعِ ، وَالنَّحْلِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: چیونٹی ، مینڈک ، شہد کی مکھی اور دیگر ( جانوروں ) وغیرہ کا بیان جنہں مارنے سے منع کیا گیا ہے
حدیث نمبر: 6085
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا فَانْطَلَقَ لِحَاجَةٍ ، فَجَاءَ ، وَقَدْ أَوْقَدَ رَجُلٌ عَلَى قَرْيَةِ نَمْلٍ إِمَّا فِي الْأَرْضِ ، وَإِمَّا فِي شَجَرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّكُمْ فَعَلَ هَذَا ؟ " . قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ : " أَطْفِئْهَا أَطْفِئْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے جب آپ واپس تشریف لائے تو کسی شخص نے چیونٹیوں کی بستی پر آگ لگا دی تھی جو یا زمین میں تھی یا درخت پر تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے ایسا کیا ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اسے بجھا دو تم اسے بجھا دو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔