مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ ذَكَاةِ الْمُتَرَدِّي وَنَحْوِهِ . باب: ( بلندی سے ) گرے ہوئے یا اس کی مانند جانور کو ذبح کرنا
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ بَعِيرًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَدَّ فَطَلَبُوهُ ، فَلَمَّا أَعْيَاهُمْ أَنْ يَأْخُذُوهُ رَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ مَقْتَلَهُ ، فَسَأَلُوهُ عَنْ أَكْلِهِ فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهِ ، وَقَالَ : " إِنَّ لَهَا أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَإِذَا حَبَسْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَاصْنَعُوا بِهِ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ بِهَذَا ، ثُمَّ كُلُوهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ ، وَهَذَا أَبْيَنُ أَيْضًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مِنْ ضَعْفٍ . ¤سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سرکش ہو گیا لوگوں نے اس کا پیچھا کیا جب اس نے لوگوں کو تھکا دیا کہ وہ اسے نہیں پکڑ سکے تو ایک شخص نے اسے تیر مارا تو وہ تیر اس کے اس جگہ پر لگا جس کے ذریعے وہ مر گیا لوگوں نے اس کا گوشت کھانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس کو کھانے کی ہدایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وحشی جانوروں کے بدکنے کی طرح یہ جانور بھی سرکش ہو جاتے ہیں تو جب تم ان میں سے کسی پر ق ابونہ پا سکو تو اس جانور کے ساتھ اسی طرح کرو جس طرح اس کے ساتھ کیا ہے اور پھر اس کا گوشت کھا لو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے اور یہ روایت زیادہ واضح ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔