مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيد والذبائح— شکار اور ذبیحہ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا تَجُوزُ بِهِ الذَّكَاةُ . باب: کون سی چیز کے ذریعے ذبح کرنا جائز ہے
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : خَرَجَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ فِي مَشْهَدٍ لَهُمْ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ أَصْلَعَ أَعْسَرَ أَيْسَرَ قَدْ أَشْرَفَ فَوْقَ النَّاسِ بِذِرَاعٍ ، عَلَيْهِ إِزَارٌ غَلِيظٌ وَبُرْدٌ مَطَرٍ ، وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَاجِرُوا ، وَلَا تَهْجُرُوا ، وَلَا يَخْذِفَنَّ أَحَدُكُمُ الْأَرْنَبَ بِعَصَاةٍ ، أَوْ بِحَجَرٍ ، ثُمَّ يَأْكُلْهَا ، وَلْيُذَكِّ عَلَيْكُمُ الْأَسَلُ الرِّمَاحَ وَالنَّبْلَ . فَقُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا : عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤زربن حبیش بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ ایک جنگ کے سلسلے میں نکلے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو آگے سے گنجا تھا اور لمبا تڑنگا تھا ، وہ لوگوں سے ایک بالشت لمبا محسوس ہوتا تھا ، اس نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر لی ہوئی تھی وہ یہ کہہ رہا تھا : اے لوگو ! روانہ ہو جاؤ اور تم کوئی غلط بات نہ کہنا اور کوئی شخص لاٹھی یا پتھر کے ذریعے خرگوش کو نہ مارے کہ پھر اس کو کھا لے بلکہ چھوٹے یا بڑے نیزے کے ذریعے ذبح کرنا ، میں نے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ سیدنا عمر بن خطاب ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔