حدیث نمبر: 6039
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : كَانَتْ جَارِيَةٌ لِأَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو تَرْعَى غَنَمًا فَعَطِبَتْ مِنْهَا شَاةٌ فَكَسَرَتْ حَجَرًا مِنَ الْمَرْوَةِ فَذَكَّتْهَا . فَأَتَتْ بِهَا إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو ، فَأَخْبَرَتْهُ ، فَقَالَ : اذْهَبِي بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَنْتِ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ أَفْرَيْتِ الْأَوْدَاجَ ؟ " . قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ : " كُلُّ مَا فَرَى الْأَوْدَاجَ مَا لَمْ يَكُنْ مَرْمَى سِنٍّ أَوْ حَدَّ ظُفُرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابومسعود عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی کنیز بکریاں چرا رہی تھی ان میں سے ایک بکری مرنے لگی تو اس کنیز نے ایک پتھر توڑا اور اس کے ذریعے بکری کو ذبح کر لیا پھر وہ اس کو لے کے سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے فرمایا : تم اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اسی حالت میں جس طرح تم ہو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے دریافت کیا : کیا تم نے رگوں کو کاٹ دیا تھا ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہر وہ چیز جو رگوں کو کاٹ دے بشرطیکہ وہ ہڈی (سن) یا ناخن (ظفر) نہ ہو۔ ( تو وہ جائز ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيد والذبائح / حدیث: 6039
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7851)»