حدیث نمبر: 554
وَعَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ قَالَ : كَانَ أَنَسٌ مِمَّا يَقُولُ لَنَا إِذَا حَدَّثْنَا هَذَا الْحَدِيثَ : إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا هُوَ بِالَّذِي تَصْنَعُ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ . يَعْنِي : وَيَقْعُدُ أَحَدُكُمْ فَيَجْتَمِعُونَ حَوْلَهُ فَيَخْطُبُ ، إِنَّمَا كَانُوا إِذَا صَلَّوُا الْغَدَاةَ قَعَدُوا حِلَقًا حِلَقًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، وَيَتَعَلَّمُونَ الْفَرَائِضَ وَالسُّنَنَ . ¤ وَيَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

یزید رقاشی بیان کرتے ہیں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ جب ہمیں یہ حدیث بیان کرتے تھے ، تو اُس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کرتے تھے : اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح نہیں کیا کرتے تھے ، جس طرح تم اور تمہارے ساتھی کرتے ہو ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی مراد یہ تھی کہ تم لوگ یہ کرتے ہو کہ ایک شخص بیٹھ جاتا ہے ، لوگ اُس کے اردگرد اکٹھے ہو جاتے ہیں ، اور وہ خطبہ دیتا ہے ( یعنی وہ تقریر کرتا ہے ) صحابہ کرام کا یہ معمول تھا کہ وہ لوگ صبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد حلقہ بنا کر بیٹھ جاتے تھے ، وہ قرآن پڑھتے تھے ، فرائض اور سنتیں سیکھتے تھے ۔ یزید رقاشی نامی راوی ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 554
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 4088»