حدیث نمبر: 555
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِي : " يَا قَبِيصَةُ ، مَا جَاءَ بِكَ ؟ " قُلْتُ : كَبَرَتْ سِنِّي ، وَرَقَّ عَظْمِي ، فَأَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مَا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ . قَالَ : " يَا قَبِيصَةُ ، مَا مَرَرْتَ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ وَلَا مَدَرٍ إِلَّا اسْتَغْفَرَ لَكَ . يَا قَبِيصَةُ ، إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْتَ ثَلَاثًا : سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمَ وَبِحَمْدِهِ ، تُعَافَى مِنَ الْعَمَى وَالْجُذَامِ وَالْفَالِجِ . يَا قَبِيصَةُ قُلْ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مِمَّا عِنْدَكَ ، وَأَفِضْ عَلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ ، وَانْشُرْ عَلَيَّ مَنْ رَحِمَتْكَ ، وَأَنْزِلْ عَلَيَّ مِنْ بَرَكَاتِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے قبیصہ ! تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے عرض کی : میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، میں آپ کے پاس اس لیے آیا ہوں ، تاکہ آپ مجھے اُس چیز کی تعلیم دیں ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے قبیصہ ! تم جس بھی پتھر یا درخت یا ( مٹی سے بنی ہوئی ) اینٹ کے پاس سے گزرے ، اُنہوں نے تمہارے لئے دعائے مغفرت کی ( کیونکہ تم علم کے حصول کے لئے آئے ہو ) اے قبیصہ ! جب تم صبح کی نماز ادا کر لو ، تو تم تین مرتبہ سبحان اللہ العظیم و بحمدہ پڑھو ! تم نابینا پن ، جذام اور فالج سے محفوظ رہو گے ، اے قبیصہ ! تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں تجھ سے وہ مانگتا ہوں ، جو تیرے پاس ہے ، تو مجھ پر اپنا فضل بہا دے ، اور مجھ پر اپنی رحمت نچھاور کر دے اور مجھ پر اپنی برکتیں نازل کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 555
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 60/5 اورده المؤلف فى زوائد المسند 207»