مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَمُجَالَسَتِهِمْ . باب: علماء اور ان کی ہم نشینی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 528
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَبْعَثُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ثُمَّ يُمَيِّزُ الْعُلَمَاءَ فَيَقُولُ : يَا مَعْشَرَ الْعُلَمَاءِ ، إِنِّي لَمْ أَضَعْ فِيكُمْ عِلْمِي لِأُعَذِّبَكُمْ ، اذْهَبُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوموسیٰ اشعری روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ بندوں کو زندہ کرے گا ، پھر علماء کو الگ کر لے گا اور ( ان سے ) فرمائے گا : اے علماء کے گروہ ! میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا تھا کہ میں تمہیں عذاب دوں گا ، تم جاؤ ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔