وَعَنْ حِزَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ قَدْ أَصْبَحْتُمْ فِي زَمَانٍ ، كَثِيرٌ فُقَهَاؤُهُ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ ، كَثِيرٌ مُعْطُوهُ ، قَلِيلٌ سُؤَّالُهُ ، الْعَمَلُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعِلْمِ ، وَسَيَأْتِي زَمَانٌ قَلِيلٌ فُقَهَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ ، وَكَثِيرٌ سُؤَّالُهُ ، قَلِيلٌ مُعْطُوهُ ، الْعِلْمُ فِيهِ خَيْرٌ مِنَ الْعَمَلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّرَائِفِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ قِيلَ فِيهِ : يَرْوِي عَنِ الضُّعَفَاءِ ، وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ صَدَقَةَ بْنِ خَالِدٍ ، وَهُوَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ . ¤حزام بن حکیم بن حزام ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو ، جس میں دین کا علم رکھنے والے لوگ زیادہ ہیں اور خطاب کرنے والے تھوڑے ہیں ، ایسے لوگ زیادہ ہیں ، جنہیں وہ ( علم ) دیا گیا ہے اور ایسے لوگ کم ہیں جو وہ ( علم ) مانگتے ہیں ، اس زمانے میں عمل ، علم سے بہتر ہے ، عنقریب ایک ایسا زمانہ آئے گا ، جس میں علم والے لوگ تھوڑے ہوں گے ، اور خطیب زیادہ ہوں گے ، سوال کرنے والے زیادہ ہوں گے اور ایسے لوگ کم ہوں گے ، جنہیں وہ ( علم ) دیا گیا ہو ، ایسے وقت میں علم ، عمل سے بہتر ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن طرائفی ہے اور وہ ثقہ ہے ، تاہم اس کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے : وہ ضعیف راویوں سے روایات نقل کرتا ہے اور یہ روایت اُس نے صدقہ بن خالد سے نقل کی ہے ، جو صحیح کے رجال میں سے ایک ہے ۔