مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَمُجَالَسَتِهِمْ . باب: علماء اور ان کی ہم نشینی کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 527
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْعُلَمَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا قَعَدَ عَلَى كُرْسِيِّهِ لِفَصْلِ عِبَادِهِ : إِنِّي لَمْ أَجْعَلْ عِلْمِي وَحِلْمِي فِيكُمْ إِلَّا وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَغْفِرَ لَكُمْ عَلَى مَا كَانَ فِيكُمْ وَلَا أُبَالِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ثعلبہ بن حکم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن ، اللہ تعالیٰ علماء سے یہ فرمائیے گا ، اُس وقت جب وہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے اپنی کرسی پر بیٹھے گا ( اُس وقت وہ یہ فرمائے گا : ) میں نے اپنا علم اور اپنی بردباری تمہارے اندر صرف اس لیے رکھی تھی کیونکہ میں یہ ارادہ رکھتا تھا کہ میں تمہاری مغفرت کر دوں گا ، خواہ تمہارے اندر جو بھی خامیاں موجود ہوں ، میں ان کی کوئی پروا نہیں کروں گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔