حدیث نمبر: 526
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، عَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ ، وَقَبْضُهُ ذَهَابُ أَهْلِهِ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ ; فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي مَتَى يَفْتَقِرُ إِلَى مَا عِنْدَهُ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ ، وَإِيَّاكُمُ وَالتَّنَطُّعَ وَالتَّعَمُّقَ ، وَعَلَيْكُمْ بِالْعَتِيقِ ; فَإِنَّهُ سَيَجِيءُ قَوْمٌ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ يَنْبِذُونَهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” اے لوگو ! تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ، اس سے پہلے کہ اسے اٹھا لیا جائے اور اس کا اُٹھایا جانا ، یوں ہو گا کہ اہل علم رخصت ہو جائیں گے ، تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ، کیونکہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا ، کہ اس کو کب اپنے علم کی ضرورت پیش آ جائے ؟ تم پر علم حاصل کرنا لازم ہے ، لیکن تم باریک بینی اور گہرائی سے بچ کے رہنا اور عتیق کے ساتھ رہنا تم پر لازم ہے ، کیونکہ عنقریب ایسے لوگ آئیں گے ، جو اللہ کی کتاب کی تلاوت کریں گے ، لیکن وہ لوگ اُسے پس پشت ڈال دینگے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور ابوقلابہ نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 526
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8845»