مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعُلَمَاءِ وَمُجَالَسَتِهِمْ . باب: علماء اور ان کی ہم نشینی کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ سُلَيْمَانَ عَلَى شَطِّ دِجْلَةَ ، فَقَالَ : يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ ، انْزِلْ فَاشْرَبْ ، فَشَرِبْتُ ، ثُمَّ قَالَ : اشْرَبْ ، فَشَرِبْتُ ، فَقَالَ : مَا نَقَصَ شُرْبُكَ مِنْ دِجْلَةَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : مَا نَقَصَ ! قَالَ : فَإِنَّ الْعِلْمَ كَذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَا يَنْقُصُ . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِطُولِهِ فِي الزُّهْدِ فِي عَيْشِ السَّلَفِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤عبس سے تعلق رکھنے والے ، ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سلیمان کے ساتھ دریائے دجلہ کے کنارے چلتا ہوا جا رہا تھا ، اُس نے کہا: اے بنوعبس سے تعلق رکھنے والے فرد ! تم اُترو اور پانی پی لو ! میں نے پانی پی لیا ، پھر اس نے کہا: ( مزید ) پانی پی لو ! میں نے پانی پی لیا ، اُس نے دریافت کیا : تمہارے پیے ہوئے پانی نے دریائے دجلہ میں کتنی کمی کی ہے ؟ میں نے جواب دیا : کوئی کمی نہیں کی ہے ، تو اُس نے کہا: ” علم کی مثال بھی اسی طرح ہے ، اُس میں سے جتنا بھی حاصل کر لیا جائے ، اُس میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ، جو آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں ، اسلاف کے طریقہ کار سے متعلق باب میں ، طویل روایت کے طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔