حدیث نمبر: 5192
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ : جَلَسْتُ فِي الْمِرْبَدِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ بِحَلْبٍ لَهُ مِنْ إِبِلٍ فَأَقَامَهَا عِنْدَنَا فَغَشِيَتْنَا إِبِلُهُ فَقُمْنَا مِنْ مَجْلِسِنَا وَغَشِيَتْنَا الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي لَأَرَاكَ مَجْنُونًا ، قَالَ : مَا أَنَا بِمَجْنُونٍ وَإِنَّ مَعِي كِتَابًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَأَخْرَجَهُ فَإِذَا هُوَ كُرَاعٌ مِنْ أَدِيمٍ فَقَرَأْنَاهُ فَإِذَا فِيهِ : " صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ " . فَقُلْنَا : رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَكَ هَذَا ؟ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں مربد میں بیٹھا ہوا تھا ایک دیہاتی اپنے اونٹ کا دودھ لے کر آیا اور ہمارے پاس وہاں ٹھہر گیا اس کے اونٹ ہمارے پاس آ گئے تو ہم اپنی جگہ سے اٹھ گئے پھر دوسری مرتبہ اس کے اونٹ ہمارے پاس آ گئے تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں سمجھتا ہوں تم پاگل ہو اس نے کہا: میں پاگل نہیں ہوں میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک مکتوب موجود ہے پھر اس نے وہ نکالا تو وہ چمڑے کے ایک ٹکڑے میں موجود تھا اس میں لکھا ہوا تھا ہم نے اسے پڑھا تو اس میں یہ تحریر تھا ۔ ” صبر والے مہینے کے روزے اور ہر مہینے کے تین روزے سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو رخصت کر دیتے ہیں “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں ) ہم نے دریافت کیا : کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تمہیں لکھ کر دیا تھا اس نے کہا: میں یہ گواہی دیتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مجھے لکھ کے دیا تھا ( یا لکھوا کے دیا تھا ۔ )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس کا تعلق بنو سلیم سے ہے میں اس سے واقف ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5192
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف