حدیث نمبر: 5191
وَعَنْ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ : كُنَّا بِالْمِرْبَدِ فَأَتَانَا أَعْرَابِيٌّ وَمَعَهُ قِطْعَةُ أَدِيمٍ فَقَالَ : انْظُرُوا مَا فِيهَا . فَإِذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ حَيٍّ مِنْ عُكْلٍ : " إِنَّكُمْ إِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلَاةَ ، وَآتَيْتُمُ الزَّكَاةَ ، وَأَدَّيْتُمْ خُمُسَ مَا غَنِمْتُمْ ، وَسَهْمَ النَّبِيِّ وَالصَّفِيِّ ، فَأَنْتُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ " . قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " شَهْرُ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَغَرَ الصَّدْرِ " . فَسَأَلْنَا عَنْهُ فَقِيلَ : هَذَا النَّمِرُ بْنُ تَوْلَبٍ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا ذِكْرِ الصَّوْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ خَلَّادِ بْنِ قُرَّةَ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ ، وَكِلَاهُمَا لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

ابوالعلاء بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مربد میں موجود تھے ایک دیہاتی ہمارے پاس آیا اس کے پاس چمڑے کا ایک ٹکڑا موجود تھا اس نے کہا: تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ اس میں کیا تحریر ہے ، تو اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب تھا جو بنوز ہیر بن اقیش کے نام تھا جو عکل قبیلے کی ایک شاخ ہے ( اس میں یہ تحریر تھا : ) ” اگر تم لوگ نماز قائم کرو زکوۃ ادا کرو جو غنیمت تمہیں حاصل ہوتی ہے اس کا خمس ادا کرو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہے ، اور منتخب شدہ حصہ ہے ( وہ ادا کرو ) تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امان کے تحت محفوظ رہو گے “ ۔ ( راوی کہتے ہیں ) میں نے دریافت کیا : کیا آپ نے یہ بات خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، تو انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صبر والے مہینے اور ہر مہینے کے تین روزے سینے کے کھوٹ ( یا وسوسے ) کو رخصت کر دیتے ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے ان صاحب کے بارے میں دریافت کیا ، تو بتایا گیا ان کا نام نمر بن تولب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے تاہم اس میں روزے کا ذکر نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں خلاد بن قرہ بن خلاد کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5191
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (363/5)»