مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ . باب: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا
وَعَنْ كَهْمَسٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ : قَدُمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجْتُ عَنْهُ فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ حَوْلٍ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : " لَا " . قُلْتُ : أَنَا الَّذِي كُنْتُ عِنْدَكَ عَامَ الْأَوَّلِ . قَالَ : " فَمَا غَيَّرَكَ بَعْدِي ؟ " . قَالَ : مَا أَكَلْتُ طَعَامًا مُنْذُ فَارَقْتُكَ ! قَالَ : " فَمَنْ أَمَرَكَ بِتَعْذِيبِ نَفْسِكَ ؟ صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ " . قُلْتُ : زِدْنِي . فَزَادَنِي حَتَّى قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْمِنْقَرِيُّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا کہمس ہلالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا پھر آپ کے پاس ٹھہرا رہا پھر میں آپ کے پاس سے نکلا پھر میں ایک سال بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ نے مجھے پہچانا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے عرض کی : میں وہ شخص ہوں جو ایک سال پہلے آپ کے ہاں ٹھہرا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا حلیہ کیوں تبدیل ہو گیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جب سے میں آپ سے جدا ہوا ہوں میں نے کبھی کھانا نہیں کھایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہیں کس نے یہ حکم دیا تھا کہ تم اپنے آپ کو عذاب کا شکار کرو تم ہر مہینے میں ایک دن روزہ رکھ لیا کرو میں نے عرض کی : آپ مجھے مزید کی اجازت دیجیے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مزید کی اجازت دی یہاں تک کہ آپ نے ارشاد فرمایا : ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیا کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یزید منقری ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔