مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ . باب: ہر مہینے میں تین روزے رکھنا
وَعَنِ ابْنِ الْحَوْتَكِيَّةِ قَالَ : أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِطَعَامٍ فَدَعَا إِلَيْهِ رَجُلَيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ ؟ لَوْلَا كَرَاهِيَةُ أَنْ أَزِيدَ أَوْ أَنْتَقِصَ لَحَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ ، وَلَكِنْ أَرْسِلُوا إِلَى عَمَّارٍ ، فَجَاءَ عَمَّارٌ فَقَالَ : أَشَاهِدٌ أَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَاءَهُ الْأَعْرَابِيُّ بِالْأَرْنَبِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا فَقَالَ : " كُلُوهَا " . فَقَالَ : إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ : " وَأَيُّ الصِّيَامِ تَصُومُ ؟ " . قَالَ : أَوَّلُ الشَّهْرِ وَآخِرُهُ . قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا فَصُمِ الثَّلَاثَ عَشْرَةَ وَالْأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَالْخَمْسَ عَشْرَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤ابن حوتکیہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا لایا گیا انہوں نے دو آدمیوں کو کھانے کی دعوت دی تو ان میں سے ایک نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم نے کون سا روزہ رکھا ہوا ہے اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں کچھ اضافہ کر دوں گا یا کمی کر دوں گا ، تو میں تم لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتا جب ایک دیہاتی خرگوش لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا ، لیکن تم ایسا کرو کہ عمار بن یاسر کو پیغام بھیج کر بلواؤ جب سیدنا عمار رضی اللہ عنہ آئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا تم اس وقت موجود تھے ، جب ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش ( کا گوشت ) لے کر آیا تھا ، تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس نے یہ بتایا تھا کہ میں نے اس کا خون دیکھا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : تم لوگ اسے کھا لو ! اس نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم نے کون سا روزہ رکھا ہوا ہے اس نے جواب دیا : مہینے کا ابتدائی اور اس کا آخری ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم نے روزہ رکھنا ہی ہے ، تو ( ہر مہینے میں ) تین روزے رکھا کرو تیرہ ، چودہ اور پندرہ ( تاریخ ) کو روزہ رکھا کرو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔