مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . باب: شب قدر کا بیان
حدیث نمبر: 5065
وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةٌ بُلْجَةٌ لَا حَارَّةٌ وَلَا بَارِدَةٌ وَلَا سَحَابَ فِيهَا وَلَا مَطَرَ وَلَا رِيحَ ، وَلَا يُرْمَى فِيهَا بِنَجْمٍ ، وَمِنْ عَلَامَةِ يَوْمِهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَا شُعَاعَ لَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ بَكَّارِ بْنِ تَمِيمٍ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شب قدر معتدل رات ہوتی ہے نہ گرم ہوتی ہے نہ ٹھنڈی ہوتی ہے نہ اس میں بادل ہوتا ہے نہ بارش ہوتی ہے ، اور نہ ہوا ہوتی ہے اس میں ستارہ نہیں ٹوٹتا اور اس کے اگلے دن کی نشانی یہ ہے کہ جب سورج نکلتا ہے ، تو اس میں شعاع نہیں ہوتی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن عون ہے اس نے بکار بن تمیم سے
یہ روایت نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔