مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . باب: شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ قَالَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَقُومَ مَعَنَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ فَلْيَقُمْ " . فَقَامَ بِنَا حَتَّى انْقَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَى قُبَّتَهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ قُمْتَ بِنَا هَذِهِ اللَّيْلَةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " [ بِحَسْبِ امْرِئٍ ] أَنْ يَقُومَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ يُحْسَبُ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ ، وَضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ . ¤سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیے ہوئے تھے ، جب تیئسویں رات آئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : جو شخص آج رات ہمارے ساتھ نوافل ادا کرنا چاہے وہ ادا کر لے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نوافل پڑھائے یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی پھر آپ نے نماز ختم کی میں آپ کے ساتھ چلتا ہوا آپ کے خیمے تک آیا ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں اس رات میں نوافل پڑھاتے رہتے تو یہ مناسب تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آدمی کے لئے اتنا ہی مناسب ہے کہ وہ امام کے ساتھ نوافل ادا کرے یہاں تک کہ جب امام نماز ختم کر دے ( تو آدمی بھی ختم کر دے ) تو یہ اس کے لئے پوری رات کے نوافل نوٹ کیے جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے ، جسے دحیم نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔