مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . باب: شب قدر کا بیان
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فِي رَمَضَانَ فَالْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ ، فَإِنَّهَا فِي وِتْرٍ فِي إِحْدَى وَعِشْرِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ أَوْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ أَوْ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ ، أَوْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ ، فَمَنْ قَامَهَا ابْتَغَاهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ثُمَّ وُفِّقَتْ لَهُ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ ، وَمَا تَأَخَّرَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شب قدر کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ رمضان میں ہو گی تم اسے آخری عشرے میں تلاش کرو کیونکہ یہ طاق رات ہو گی اکیسویں ہو گی یا تئیسویں ہو گی یا پچیسویں ہو گی یا ستائیسویں ہو گی یا انتیسویں ہو گی یا آخری ہو گی جو شخص اس میں نوافل ادا کرے گا وہ ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے اس کو تلاش کرے گا ، اور پھر اسے اس رات کی ، توفیق مل جائے تو اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔