حدیث نمبر: 5041
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْبَوَاقِي مَنْ قَامَهُنَّ ابْتِغَاءَ حِسْبَتِهِنَّ ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَغْفِرُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ ، وَهِيَ لَيْلَةُ وِتْرٍ : تِسْعٌ أَوْ سَبْعٌ أَوْ خَامِسَةٌ أَوْ ثَالِثَةٌ ، أَوْ آخِرُ لَيْلَةٍ " . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ أَمَارَةَ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَنَّهَا صَافِيَةٌ بُلْجَةٌ كَأَنَّ فِيهَا قَمَرًا سَاطِعًا سَاكِنَةٌ شَاجِبَةٌ لَا بَرْدَ فِيهَا وَلَا حَرَّ وَلَا يَحِلُّ لِكَوْكَبٍ [ أَنْ ] يُرْمَى بِهِ فِيهَا حَتَّى يُصْبِحَ ، وَإِنَّ أَمَارَتَهَا أَنَّ الشَّمْسَ صَبِيحَتَهَا تَخْرُجُ مُسْتَوِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ مِثْلَ الْقَمَرِ الْبَدْرِ ، لَا يَحِلُّ لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَخْرُجَ مَعَهَا يَوْمَئِذٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر باقی رہ جانے والے عشرے میں ہو گی جو شخص ان راتوں میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے نوافل ادا کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی بخشش کر دے گا یہ طاق رات ہوتی ہے نویں یا ساتویں یا پانچویں یا تیسری یا آخری رات ہو گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ وہ صاف اور روشن ہو گی ، اس میں چاند چمک رہا ہو گا ، وہ رات ساکن اور معتدل ہو گی ، اس رات میں نہ ٹھنڈک ہو گی ، اور نہ گرمی ہو گی ، اور اس رات میں ستارہ نہیں ٹوٹے گا یہاں تک کہ صبح ہو جائے اور اس کی مخصوص نشانی یہ ہے کہ اس سے اگلی صبح جب سورج نکلتا ہے ، تو وہ بالکل برابر ہوتا ہے اس میں شعاع نہیں ہوتی وہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوتا ہے اس دن شیطان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ سورج کے ہمراہ نکلے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 5041
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (324/3)»