مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . باب: شب قدر کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : مَنْ يَذْكُرُ [ مِنْكُمْ ] لَيْلَةَ الصَّهْبَاوَاتِ ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : أَنَا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَإِنَّ فِي يَدِي التَّمَرَاتِ أَتَسَحَّرُ بِهِنَّ مُسْتَتِرًا بِمُؤَخِّرَةِ رَحْلِي مِنَ الْفَجْرِ ، وَذَلِكَ حِينَ يَطْلُعُ الْقَمَرُ ! ! رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : وَذَلِكَ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے دریافت کیا : تم میں سے کس شخص کو صهباوات والی رات یاد ہے ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے ، اس وقت میرے ہاتھ میں کچھ کھجوریں تھیں میں ان کے ذریعے سحری کر رہا تھا اور پالان کے پچھلے حصے کے ذریعے پردہ کر رہا تھا جو صبح صادق کی چمک کی وجہ سے تھا یہ اس وقت ہوا تھا جب چاند نکلا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ ستائیسویں رات تھی “ ۔ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد ( یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔