مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ . باب: شب قدر کا بیان
وَعَنْ أَبِي عَقْرَبٍ قَالَ : غَدَوْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ذَاتَ غَدَاةٍ فِي رَمَضَانَ فَوَجَدْتُهُ فَوْقَ بَيْتٍ جَالِسًا فَسَمِعْنَا صَوْتَهُ وَهُوَ يَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ . فَقُلْنَا : سَمِعْنَاكَ تَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ ؟ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَيْلَةُ الْقَدْرِ فِي النِّصْفِ مِنَ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ غَدَاتَئِذٍ صَافِيَةً لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " . فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَوَجَدْتُهَا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَأَبُو عَقْرَبٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابوعقرب بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس رمضان کے مہینے میں ایک صبح آیا تو میں نے انہیں گھر کی چھت پر بیٹھے ہوئے پایا میں نے ان کی آواز سنی وہ یہ کہہ رہے تھے اللہ نے سچ فرمایا ہے ، اور اس کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے ہم نے کہا: ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے اللہ نے سچ فرمایا ہے ، اور اس کے رسول نے تبلیغ کر دی ہے ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شب قدر رمضان کی آخری سات راتوں کے نصف میں ہوتی ہے ، اور اس سے اگلے دن جب سورج نکلتا ہے ، تو وہ صاف ہوتا ہے ، اس کی شعاع نہیں ہوتی“ ۔ میں نے اس ( سورج ) کی طرف دیکھا تو میں نے اسے اسی طرح پایا جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ابوعقرب نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔