مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي فَضْلِ الْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ .
وَعَنْ أَبِي الرُّدَيْنِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ قَوْمٍ يَجْتَمِعُونَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ يَتَعَاطَوْنَهُ بَيْنَهُمْ إِلَّا كَانُوا أَضْيَافًا لِلَّهِ ، وَإِلَّا حَفَّتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا أَوْ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ، وَمَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ فِي طَلَبِ عِلْمٍ مَخَافَةَ أَنْ يَمُوتَ ، أَوِ انْتِسَاخُهُ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرَسَ - إِلَّا كَانَ كَالْغَادِي الرَّائِحِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَمَنْ يُبْطِئُ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مُخْتَلِفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤سیدنا ابوردین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب بھی کچھ لوگ ، اللہ تعالیٰ کی کتاب کے حوالے سے اکٹھے ہو کر ، ایک دوسرے کو اُس کی تعلیم دیتے ہیں ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان شمار ہوتے ہیں اور فرشتے اُنہیں ڈھانپ کے رکھتے ہیں ، جب تک وہ اپنی جگہ سے اُٹھتے نہیں ہیں ، یا کسی اور بات چیت میں مشغول نہیں ہوتے ہیں ، جب بھی کوئی شخص علم کے حصول کے لیے نکلتا ہے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ علم رخصت نہ ہو جائے ، یا وہ اس علم کو نقل کرتا ہے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ علم مٹ نہ جائے ، تو ایسا شخص اللہ کی راہ میں صبح و شام کرنے والے کی مانند ہوتا ہے اور جس شخص کا عمل اُسے سست کر دے ، اُس کا نسب اُسے تیز نہیں کر سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے اس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔