حدیث نمبر: 496
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : غَدَوْتُ عَلَى صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ فَقَالَ : مَا غَدَا بِكَ يَا زِرُّ ؟ قُلْتُ : أَلْتَمِسُ الْعِلْمَ . قَالَ : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا وَلَا تَغْدُ بَيْنَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ . ¤
محمد محی الدین

زربن حبیش بیان کرتے ہیں : میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو اُنہوں نے دریافت کیا : اے زر ! تم کیوں آئے ہو ؟ میں نے جواب دیا : علم حاصل کرنے کے لیے ، اُنہوں نے فرمایا : تم عالم رہنا ! یا طالب علم رہنا ! ان کے علاوہ کچھ نہ رہنا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفص بن سلیمان ہے ، اُسے امام أحمد نے ثقہ قرار دیا ہے اور بہت سے لوگوں نے اُسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 496
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 19»