حدیث نمبر: 495
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا أَوْ مُسْتَمِعًا أَوْ مُحِبًّا ، وَلَا تَكُنِ الْخَامِسَةَ فَتَهْلِكَ " - قَالَ عَطَاءٌ : قَالَ لِي مِسْعَرٌ : زِدْتَنَا خَامِسَةً لَمْ تَكُنْ عِنْدَنَا - [ قَالَ ] : " وَالْخَامِسَةُ أَنْ تُبْغِضَ الْعِلْمَ وَأَهْلَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم عالم بنو ! یا طالب علم بنو ! یا سننے والے بنو ! یا محبت رکھنے والے بنو ! ( ان چار کے علاوہ ) پانچویں فرد نہ بننا ، ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے “ ۔ عطاء بیان کرتے ہیں : مسعر نے مجھ سے کہا: آپ نے ہمیں پانچویں چیز مزید بیان کی ہے ، جو ہمارے پاس نہیں تھی ، اُنہوں نے یہ بیان کیا تھا : پانچویں چیز یہ ہے کہ تم علم اور اہل علم سے بغض رکھو !
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں ، اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 495
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 5171 اخرجه الطبراني فى معجم الصغير 9/2 كشف الاستار 134»