حدیث نمبر: 494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : اغْدُ عَالِمًا أَوْ مُتَعَلِّمًا ، وَلَا تَغْدُ بَيْنَ ذَلِكَ ، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَأَحِبَّ الْعُلَمَاءَ وَلَا تُبْغِضْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَيْرٍ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : ” تم عالم بنو ! یا طالب علم بنو ! ان کے علاوہ کچھ نہ بننا ، اگر تم یہ بھی نہیں کر سکتے ، تو پھر علماء سے محبت رکھنا اُن سے بغض نہ رکھنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ عبدالملک بن عمیر نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 494
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع