مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصَّائِمِ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَفْعَلُ الْخَيْرَ . باب: روزہ دار شخص کا بیمار کی عیادت کرنا اور بھلائی کے دوسرے کام کرنا
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَمْ أُحَدِّثْ نَفْسِي بِالصَّوْمِ الْبَارِحَةَ فَأَصْبَحْتُ مُفْطِرًا . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : لَكِنِّي حَدَّثْتُ نَفْسِي بِالصَّوْمِ الْبَارِحَةَ فَأَصْبَحْتُ صَائِمًا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْكُمُ الْيَوْمَ أَحَدٌ عَادَ مَرِيضًا ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا ثُمَّ لَمْ نَبْرَحْ فَكَيْفَ نَعُودُ الْمَرْضَى ؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : بَلَغَنِي أَنَّ أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ اشْتَكَى فَجَعَلْتُ طَرِيقِي عَلَيْهِ حِينَ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ لِأَنْظُرَ كَيْفَ أَصْبَحَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا ؟ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا ثُمَّ لَمْ نَبْرَحْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزِ شَعِيرٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْتَ فَأَبْشِرْ بِالْجَنَّةِ " . فَتَنَفَّسَ عُمَرُ فَقَالَ : وَاهًا لِلْجَنَّةِ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً رَضَّى بِهَا عُمَرَ : " رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ رَحِمَ اللَّهُ عُمَرَ لَمْ يُرِدْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا سَبَقَهُ أَبُو بَكْرٍ إِلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا ، اور دریافت کیا : کیا تم میں سے آج کسی نے روزہ رکھا ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے روزہ رکھنے کا نہیں سوچا تھا ، تو میں آج روزے کے بغیر ہوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : لیکن میں نے آج روزے کا سوچا تھا ، تو میں نے روزہ رکھا ہوا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی نے آج بیمار کی عیادت کی ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم نے تو ابھی ( فجر کی ) نماز ادا کی ہے ابھی کچھ اور نہیں کیا ، تو کسی بیمار کی عیادت کیسے کر سکتے ہیں ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے : مجھے یہ اطلاع ملی تھی کہ میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیمار ہیں تو میں آتے ہوئے ان کی طرف سے ہو کے آیا تھا جب میں مسجد کی طرف آ رہا تھا کہ یہ دیکھ لوں کہ ان کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم میں سے کسی ایک نے مسکین کو کچھ کھلایا ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابھی تو ہم نے ( فجر کی ) نماز ادا کی ہے ، اور کچھ بھی نہیں کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جب میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک سائل موجود تھا جو مانگ رہا تھا ۔ میں نے عبدالرحمن کے ہاتھ میں ایک روٹی کا ٹکڑا پایا تو میں نے اس سے لے کر وہ مسکین کو دے دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جنت کی خوشخبری حاصل کرو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے گہرا سانس لیا اور بولے : جنت کے کیا کہنے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا جس کے ذریعے آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی دلجوئی کی اور پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے اللہ تعالیٰ عمر پر رحم کرے وہ جب بھی کسی بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو ابوبکر اس سے پہلے اس بھلائی کی طرف سبقت لے جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔