مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الصَّائِمِ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَفْعَلُ الْخَيْرَ . باب: روزہ دار شخص کا بیمار کی عیادت کرنا اور بھلائی کے دوسرے کام کرنا
وَعَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِأَصْحَابِهِ : " أَيُّكُمْ أَصْبَحَ صَائِمًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَأَيُّكُمْ عَادَ مَرِيضًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَيُّكُمْ شَيَّعَ جِنَازَةً ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَيُّكُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا ؟ " . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ هَذِهِ الْأَرْبَعُ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَسَقَطَ مِنَ الْأَصْلِ : " أَيُّكُمْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا ؟ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں : آپ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا : تم میں سے آج کس نے روزہ رکھا ہوا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے بیمار کی عیادت کی ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کون جنازے کے ساتھ گیا ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے ؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص میں یہ چار چیزیں ہوں گی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اصل میں یہ الفاظ ساقط ہیں : ” تم میں سے کس نے مسکین کو کھانا کھلایا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی بن سلمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔