وَعَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ سُهَيْلٍ الثَّقَفِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبَ لَنَا قُبَّةً عِنْدَ دَارِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَكَانَ بِلَالٌ يَأْتِينَا يُفْطِرُنَا وَنَحْنُ مُسْفِرُونَ ، حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَحْسَبُ [ إِلَّا ] أَنَّ ذَلِكَ شَيْئًا بَيْنَنَا ، فَنَقُولُ : يَا بِلَالُ ، أَفَطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا جِئْتُكُمْ حَتَّى أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : وَكَانَ بِلَالٌ يَأْتِينَا بِسَحُورِنَا وَإِنَّا لَمُسْتَدْفِئُونَ ، فَنَكْشِفُ سِجْفَ الْقُبَّةِ فَيَسْتَنِيرُ لَنَا طَعَامُنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَلْقَمَةَ بْنِ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنِ اسْمُهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ صَحَابِيٍّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا علقمہ بن سہیل ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وفد میں شامل تھا جب لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ آپ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس ہمارا خیمہ لگوایا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آتے تھے ، اور ہمیں کھانا دیتے تھے اس وقت روشنی باقی ہوتی تھی ، اللہ کی قسم ہم یہی گمان کرتے تھے کہ یہ چیز ہمارے درمیان ہے ، ( یعنی ابھی افطاری کا وقت نہیں ہوا ہے ) ہم نے کہا: اے بلال ! کیا اللہ کے رسول نے افطاری کر لی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں آپ لوگوں کے پاس اس وقت آیا ہوں ، جب اللہ کے رسول نے افطاری کر لی تھی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سحری لے کر اس وقت آ جاتے تھے ، جب ہم گرمائش حاصل کرنا چاہ رہے ہوتے تھے ہم خیمے کا پردہ ہٹاتے تھے تو ہمارے لئے کھانا نمایاں ہو جاتا تھا ( یعنی اتنی روشنی ہوتی تھی کہ وہ نظر آ جاتا تھا ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ کہا: ہے : علقمہ بن سفیان نے عبدالکریم کے حوالے سے سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ میں نے کسی ایسے راوی کو نہیں پایا ہے ، جس کا نام عبدالکریم ہو ، اور اس نے کسی صحابی سے سماع کیا ہو اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔