عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : دَخَلَ عَلْقَمَةُ بْنُ عُلَاثَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لَهُ بِرَأْسٍ ، وَجَعَلَ يَأْكُلُ مَعَهُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَدَعَا إِلَى الصَّلَاةِ ، فَلَمْ يُجَبْ فَرَجَعَ ، فَمَكَثَ فِي الْمَسْجِدِ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ رَجَعَ ، فَقَالَ : الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ وَاللَّهِ أَصْبَحْتَ ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ بِلَالًا ; لَوْلَا بِلَالٌ لَرَجَوْنَا أَنْ يُؤَخَّرَ لَنَا مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ طُلُوعِ الشَّمْسِ " . فَقَالَ عَلِيٌّ : لَوْلَا أَنَّ بِلَالًا حَلَفَ لَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَقُولَ لَهُ جِبْرِيلُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ارْفَعْ يَدَكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : علقمہ بن علاثہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے کھانا منگوایا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھانا شروع کیا اسی دوران بلال آئے اور اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لئے بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تو وہ واپس چلا گیا وہ مسجد میں اتنی دیر ٹھہرا رہا جتنی دیر اللہ کو منظور تھا پھر وہ واپس آیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہو گیا ہے اللہ کی قسم صبح ہو چکی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بلال پر رحم کرے اگر بلال نہ ہوتا تو ہمیں یہ توقع تھی کہ ہمارے لئے اتنی تاخیر ہو جاتی جو ہمارے اس وقت اور سورج طلوع ہونے کے درمیان ہوتی ہے “ ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر بلال نے حلف نہ اٹھایا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا کھاتے رہتے یہاں تک کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ سے یہ کہتے کہ آپ ہاتھ اٹھا لیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔