وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ - قَالَ أَبُو أَحْمَدَ : وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ - فَدَعَا بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَسَقَانِي ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ يُرِيدُ الصَّلَاةَ ، فَقَامَ فَصَلَّى بِغَيْرِ وُضُوءٍ ، يُرِيدُ الصَّوْمَ . ¤ قُلْتُ : هَكَذَا هُوَ فِي الْأَصْلِ ، وَلَعَلَّهُ أَكَلَ شَيْئًا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو نماز کے لئے بلانے کے لئے آیا ابو أحمد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا روزہ رکھنے کا ارادہ تھا آپ نے پیالہ منگوایا اس میں سے پیا اور مجھے بھی پلایا پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے آپ کا ارادہ نماز ادا کرنے کا تھا آپ کھڑے ہوئے اور آپ از سر نو وضو کیے بغیر نماز ادا کر لی آپ کا ارادہ روزہ رکھنے کا تھا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اصل روایت ان ہی الفاظ میں منقول ہے شاید ایسا ہو گا کہ آپ نے کوئی ایسی چیز کھائی ہو گی جو آگ پر پکی ہو گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔