مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّحُورِ . باب: سحری کرنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَدْعُونِي إِلَى السَّحُورِ ، وَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ : " الْغَدَاءَ الْمُبَارَكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخُو أَبِي مَعْمَرٍ ، وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ الْحَسَنِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ ، قَالَ مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْحَمَّالُ : صَدُوقٌ لَا بَأْسَ بِهِ ، وَسُئِلَ ابْنُ مَعِينٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ فَقَالَ : مِثْلُ أَبِي مَعْمَرٍ لَا يُسْأَلُ عَنْهُ ، هُوَ وَأَخُوهُ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیج کر مجھے بلوایا انہوں نے مجھے سحری کی دعوت دی انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام مبارک ناشتہ رکھا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم ہے ، جو ابومعمر کا بھائی ہے وہ محمد بن ابراہیم بن معمر بن حسن ابوبکر ہذلی ہے موسیٰ بن ہارون حمال کہتے ہیں : یہ صدوق ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے یحیی بن معین سے ابومعمر کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : ابومعمر جیسے شخص کے بارے میں دریافت نہیں کیا جا سکتا وہ اور اس کے بھائی علم حدیث کے ماہرین میں سے ایک ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔