مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا ، وَهُوَ يُرِيدُ الصَّوْمَ . باب: جو شخص جنابت کی حالت میں صبح کرے اور اس کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ : جَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ فَقَالَ : إِنِّي مَرَرْتُ بِامْرَأَتِي فِي الْقَمَرِ ، فَأَعْجَبَتْنِي فَجَامَعْتُهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَنِمْتُ حَتَّى أَصْبَحْتُ ؟ فَقُلْتُ : عَلَيْكَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَوْ بِأَبِي حَكِيمٍ الْمُزَنِيِّ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : كُنْتُ جُنُبًا لَا تَحِلُّ لَكَ الصَّلَاةُ فَاغْتَسَلَتْ فَحَلَّ لَكَ الصَّلَاةُ وَحَلَّ لَكَ الصِّيَامُ [ فَصُمْ ] . . ¤عبدالله بن مرداس بیان کرتے ہیں : قبیلے کا ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا: میں چاندنی رات میں اپنی بیوی کے پاس سے گزرا وہ مجھے اچھی لگی تو میں نے رمضان کے مہینے میں اس کے ساتھ صحبت کر لی پھر میں سو گیا یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی عبداللہ کہتے ہیں : میں نے کہا: تم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یا سیدنا ابوحکیم مزنی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہ سوال کیا ، تو انہوں نے یہ فرمایا تم پہلے جنبی تھے تمہارے لئے نماز پڑھنا حلال نہیں تھا پھر تم نے غسل کر لیا تو نماز پڑھنا تمہارے لئے حلال ہو گیا اسی طرح روزہ رکھنا بھی تمہارے لئے حلال ہو گیا ۔