کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص جنابت کی حالت میں صبح کرے اور اس کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو
حدیث نمبر: 4834
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَفَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَسْتَحِمُّ فَيَصُومُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح صادق کے وقت جنابت کی حالت میں ہوتے تھے پھر آپ غسل کر کے روزہ رکھ لیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4834
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (326/17 و315/18)»
حدیث نمبر: 4835
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ قَالَ : جَاءَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ فَقَالَ : إِنِّي مَرَرْتُ بِامْرَأَتِي فِي الْقَمَرِ ، فَأَعْجَبَتْنِي فَجَامَعْتُهَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَنِمْتُ حَتَّى أَصْبَحْتُ ؟ فَقُلْتُ : عَلَيْكَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَوْ بِأَبِي حَكِيمٍ الْمُزَنِيِّ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : كُنْتُ جُنُبًا لَا تَحِلُّ لَكَ الصَّلَاةُ فَاغْتَسَلَتْ فَحَلَّ لَكَ الصَّلَاةُ وَحَلَّ لَكَ الصِّيَامُ [ فَصُمْ ] . . ¤
محمد محی الدین
عبدالله بن مرداس بیان کرتے ہیں : قبیلے کا ایک شخص میرے پاس آیا اور بولا: میں چاندنی رات میں اپنی بیوی کے پاس سے گزرا وہ مجھے اچھی لگی تو میں نے رمضان کے مہینے میں اس کے ساتھ صحبت کر لی پھر میں سو گیا یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی عبداللہ کہتے ہیں : میں نے کہا: تم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس یا سیدنا ابوحکیم مزنی رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے یہ سوال کیا ، تو انہوں نے یہ فرمایا تم پہلے جنبی تھے تمہارے لئے نماز پڑھنا حلال نہیں تھا پھر تم نے غسل کر لیا تو نماز پڑھنا تمہارے لئے حلال ہو گیا اسی طرح روزہ رکھنا بھی تمہارے لئے حلال ہو گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4835
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9565)»
حدیث نمبر: 4836
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ : أَنَّهُ جَاءَ إِلَى مَسْجِدِ الْحَيِّ بَعْدَ مَا صَلَّوْا الْفَجْرَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُمْ : إِنِّي أَصَبْتُ مِنْ أَهْلِي ، ثُمَّ غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَأَصْبَحْتُ وَلَمْ أَغْتَسِلْ [ فَمَا تَرَوْنَ ] ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : مَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَفْطَرْتَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَتَيْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ أَوْ أَفْقَهُ فَقَالَ : إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، فَأَتِمَّ صَوْمَكَ . ¤ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِرْدَاسٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبداللہ بن مرداس بیان کرتے ہیں : وہ قبیلہ کی مسجد میں آئے یہ لوگوں کے نماز پڑھ لینے کے بعد کی بات ہے ، اور یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے ۔ انہوں نے ان لوگوں سے کہا: میں نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی پھر میری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی میں نے غسل نہیں کیا تھا تم لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے ، تو حاضرین نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارا روزہ نہیں ہوا پھر وہ صاحب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا : پھر اس نے ان لوگوں کو آ کر یہ کہا: میں ان صاحب کے پاس گیا تھا جو تم لوگوں سے زیادہ بہتر ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دین کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں انہوں نے یہ فرمایا کہ کھانے یا پینے کی وجہ سے روزہ ختم ہوتا ہے تم اپنا روزہ مکمل کرو ۔ عبداللہ بن مرداس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4836
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9566)»
حدیث نمبر: 4837
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَوْ أَتَيْتَ امْرَأَةً مِنَ اللَّيْلِ ، ثُمَّ تَرَكْتَ الْغُسْلَ عَامِدًا حَتَّى أُصْبِحَ لَمْ يَمْنَعْنِي مِنَ الصِّيَامِ ، إِنَّمَا أَتَيْتُهَا وَهِيَ تَحِلُّ لِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَيَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں رات کے وقت اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لوں اور پھر جان بوجھ کر غسل ترک کر دوں یہاں تک کہ صبح ( صادق ) ہو جائے تو یہ چیز میرے لئے روزہ رکھنے میں رکاوٹ نہیں بنے گی کیونکہ جب میں نے اس عورت کے ساتھ صحبت کی تھی اس وقت وہ میرے لئے حلال تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ یحیی بن حارث نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4837
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9568)»