حدیث نمبر: 4836
وَفِي رِوَايَةٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِرْدَاسٍ : أَنَّهُ جَاءَ إِلَى مَسْجِدِ الْحَيِّ بَعْدَ مَا صَلَّوْا الْفَجْرَ ، وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُمْ : إِنِّي أَصَبْتُ مِنْ أَهْلِي ، ثُمَّ غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَأَصْبَحْتُ وَلَمْ أَغْتَسِلْ [ فَمَا تَرَوْنَ ] ؟ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : مَا نَرَاكَ إِلَّا قَدْ أَفْطَرْتَ ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ لَهُمْ : أَتَيْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكُمْ أَوْ أَفْقَهُ فَقَالَ : إِنَّمَا الْإِفْطَارُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ ، فَأَتِمَّ صَوْمَكَ . ¤ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِرْدَاسٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : عبداللہ بن مرداس بیان کرتے ہیں : وہ قبیلہ کی مسجد میں آئے یہ لوگوں کے نماز پڑھ لینے کے بعد کی بات ہے ، اور یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے ۔ انہوں نے ان لوگوں سے کہا: میں نے اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کی پھر میری آنکھ لگ گئی یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی میں نے غسل نہیں کیا تھا تم لوگوں کی اس بارے میں کیا رائے ہے ، تو حاضرین نے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تمہارا روزہ نہیں ہوا پھر وہ صاحب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان سے یہ مسئلہ دریافت کیا : پھر اس نے ان لوگوں کو آ کر یہ کہا: میں ان صاحب کے پاس گیا تھا جو تم لوگوں سے زیادہ بہتر ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) دین کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں انہوں نے یہ فرمایا کہ کھانے یا پینے کی وجہ سے روزہ ختم ہوتا ہے تم اپنا روزہ مکمل کرو ۔ عبداللہ بن مرداس کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4836
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9566)»