مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْكَافِرِ يُسْلِمُ فِي أَثْنَاءِ الشَّهْرِ . باب: اس کافر کا بیان ، جو رمضان کے مہنے کے دوران اسلام قبول کر لیتا ہے
حدیث نمبر: 4830
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَطِيَّةَ بْنِ رَبِيعَةَ الثَّقَفِيِّ قَالَ : قَدِمَ وَفْدُنَا مِنْ ثَقِيفٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا فِي النِّصْفِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَامُوا وَاسْتَقْبَلُوا ، وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ بِقَضَاءِ مَا فَاتَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سفیان بن عطیہ بن ربیعہ ثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ثقیف قبیلے سے تعلق رکھنے والا ہمارا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا رمضان کا نصف مہینہ گزر جانے کے بعد ان لوگوں نے اسلام قبول کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا انہوں نے روزہ رکھا اور نئے سرے سے شروع کیا جو روزے رہ گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قضاء کا ان لوگوں کو حکم نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔