مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصيام— روزوں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَتَقَدَّمُ رَمَضَانَ بِصَوْمٍ . باب: جو شخص رمضان سے ایک دن پہلے ہی روزہ رکھ لے
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عِنْدَ الْعَصْرِ يَوْمًا نَشُكُّ فِيهِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُسَلِّمَ عَلَيْهِ ، فَدَعَا بِطَعَامٍ فَأَكَلَ ، فَقُلْتُ : هَذَا الَّذِي تَصْنَعُ سُنَّةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ . . ¤ قُلْتُ : رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثًا فِي الْفِطْرِ إِذَا أَرَادَ السَّفَرَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد بن کعب بیان کرتے ہیں : میں ایک ایسے دن میں ، جس کے بارے میں ہمیں یہ شک تھا کہ یہ رمضان کا حصہ ہے ( یا نہیں ہے ؟ ) عصر کے وقت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میرا ارادہ انہیں سلام کرنے کا تھا انہوں نے کھانا منگوا کر کھایا میں نے کہا: آپ نے جو یہ کیا ہے یہ سنت ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے ان کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے ، جو اس بارے میں ہے کہ جب آدمی کا سفر کا ارادہ ہو ، تو روزہ نہ رکھا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔