حدیث نمبر: 4782
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ - وَقَدْ أَهَلَّ شَهْرُ رَمَضَانَ - : " لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لَتَمَنَّى الْعِبَادُ أَنْ يَكُونَ شَهْرُ رَمَضَانَ سَنَةً " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، حَدِّثْنَا ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَتُزَيَّنُ لِشَهْرِ رَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى رَأْسِ الْحَوْلِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقُ الْجَنَّةِ فَنَظَرَتِ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا ، وَمَا مِنْ عَبْدٍ صَامَ شَهْرَ رَمَضَانَ إِلَّا زَوَّجَهُ اللَّهُ زَوْجَةً فِي كُلِّ يَوْمٍ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ مِمَّا نَعَتَ اللَّهَ بِهِ الْحُورَ الْعِينَ الْمَقْصُورَاتِ فِي الْخِيَامِ ، عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ حُلَّةً لَيْسَ مِنْهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى ، وَتُعْطَى سَبْعِينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ لَيْسَ مِنْهُنَّ لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ ، وَكُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتٍ مُوَشَّحٍ بِالدُّرِّ ، عَلَى سَبْعِينَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً ، وَلِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ وَصِيفًا لِخِدْمَتِهَا ، وَسَبْعُونَ لِلُقْيِهَا زَوْجَهَا ، مَعَ كُلِّ وَصَيْفٍ صَحْفَةٌ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنٌ مِنَ الطَّعَامِ يَجِدُ لِآخِرِهِ مِنَ اللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي لِأَوَّلِهِ ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٍ بِالْيَاقُوتِ الْأَحْمَرِ ، هَذَا لِكُلِّ يَوْمٍ صَامَهُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْهَيَّاجُ بْنُ بِسْطَامٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابومسعود غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : اس وقت رمضان کا چاند نظر آ گیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) ” اگر بندوں کو پتہ چل جائے کہ رمضان کے مہینے میں ( کیا اجر و ثواب اور نعمتیں ) حاصل ہوتے ہیں تو بندے یہ آرزوں کریں کہ پورا سال رمضان رہے خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بیان کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک جنت رمضان کے لئے مہینے کے لئے سال کے آغاز سے لے کر اگلے سال کے آغاز تک آراستہ ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب ( رمضان کی ) پہلی رات آتی ہے ، تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے ، جس سے جنت کے پتے ہلنے لگتے ہیں حورعین ان کی طرف دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں : اے ہمارے پروردگار اس مہینے میں تو اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے ایسے شوہر مقرر کر دے کہ ان کے ذریعے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) جو بھی بندہ رمضان کے مہینے کے روزے رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی شادی ایک زوجہ کے ساتھ کروا دیتا ہے ، جس کا تعلق حورعین کے ساتھ ہوتا ہے ، اور وہ کھوکھلے موتی کے بنے ہوئے خیمے میں رہتی ہے ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے یوں بیان کی ہے : ” وہ حورعین ہیں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں“ ۔ ان میں سے ہر ایک عورت نے ستر حلے پہنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے ہر حلے کا رنگ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے ، اور اس عورت کو ستر مختلف قسم کی خوشبوئیں دی گئی ہوتی ہیں جن میں سے ہر ایک کی خوشبو دوسری سے مختلف ہوتی ہے ، ان میں سے ہر ایک عورت یاقوت کے بنے ہوئے پلنگ پر موجود ہوتی ہے ، جو قیمتی پتھروں سے آراستہ ہوتا ہے ، اور اس پر ستر بچھونے ہوتے ہیں جن کا استر ، استبرق کا ہوتا ہے ، اور ان ستر بچھونوں پر ستر تکیہ ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک عورت کے ستر ملازمین ہوتے ہیں جو اس کی خدمت کے لئے مخصوص ہیں اور ستر اس کے شوہر کی خدمت کے لئے مخصوص ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک ملازم کے پاس پیالہ ہوتا ہے ، جس میں مختلف قسم کے کھانے موجود ہوتے ہیں دوسرے کھانے کے ذریعے جو لذت آتی ہے وہ پہلے کھانے سے مختلف ہوتی ہے اس کے شوہر کو بھی اس کی مانند سرخ یاقوت سے بنا ہوا پلنگ دیا جائے گا ، اور اسے سونے کے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے جو سرخ یاقوت سے آراستہ ہوں گے ایسا ہر اس دن میں ہوتا ہے کہ رمضان کے مہینے کے جس دن میں آدمی نے روزہ رکھا ہو اس نے اس کے علاوہ جو نیکیاں کی ہوں ان کا اجر مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی میباح بن بسطام ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4782
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (388/22)»