حدیث نمبر: 4781
وَعَنِ [ ابْنِ ] مَسْعُودٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، وَهُوَ يَقُولُ - وَقَدْ أَهَلَّ رَمَضَانُ - : " لَوْ يَعْلَمُ الْعِبَادُ مَا فِي رَمَضَانَ لَتَمَنَّتْ أُمَّتِي أَنْ تَكُونَ السَّنَةُ كُلُّهَا رَمَضَانَ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ : حَدِّثْنَا بِهِ ! قَالَ : " إِنَّ الْجَنَّةَ تُزَيَّنُ لِرَمَضَانَ مِنْ رَأْسِ الْحَوْلِ إِلَى الْحَوْلِ ، حَتَّى إِذَا كَانَ أَوَّلُ يَوْمِ رَمَضَانَ هَبَّتْ رِيحٌ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ فَصَفَّقَتْ وَرَقُ الْجَنَّةِ ، فَنَظَرَ الْحُورُ الْعِينُ إِلَى ذَلِكَ فَقُلْنَ : يَا رَبِّ ، اجْعَلْ لَنَا مِنْ عِبَادِكَ فِي هَذَا الشَّهْرِ أَزْوَاجًا تَقَرُّ أَعْيُنُنَا بِهِمْ وَتَقَرُّ أَعْيُنُهُمْ بِنَا ، فَمَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ رَمَضَانَ إِلَّا زُوِّجَ زَوْجَةً مِنَ الْحُورِ الْعِينِ فِي خَيْمَةٍ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ مِمَّا نَعَتَ اللَّهُ : ( حُورٌ مَقْصُورَاتٌ فِي الْخِيَامِ ) عَلَى كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ حُلَّةً لَيْسَ فِيهَا حُلَّةٌ عَلَى لَوْنِ الْأُخْرَى ، وَتُعْطَى سَبْعِينَ لَوْنًا مِنَ الطِّيبِ لَيْسَ مِنْهَا لَوْنٌ عَلَى رِيحِ الْآخَرِ ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ سَرِيرًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ مُوَشَّحَةٍ بِالدُّرِّ ، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا بَطَائِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍ ، وَفَوْقَ السَّبْعِينَ فِرَاشًا سَبْعُونَ أَرِيكَةً ، لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ سَبْعُونَ أَلْفَ وَصِيفَةٍ لِحَاجَاتِهَا ، وَسَبْعُونَ أَلْفَ وَصَيْفٍ مَعَ كُلِّ وَصَيْفٍ صَحْفَةٌ مَنْ ذَهَبٍ فِيهَا لَوْنُ طَعَامٍ يَجِدُ لِآخَرِ لُقْمَةٍ مِنْهُ لَذَّةً لَا يَجِدُ لِأَوَّلِهِ ، وَيُعْطَى زَوْجُهَا مِثْلَ ذَلِكَ عَلَى سَرِيرٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ مُوَشَّحٍ بِيَاقُوتٍ أَحْمَرَ ، هَذَا لِكُلِّ يَوْمٍ صَامَ رَمَضَانَ سِوَى مَا عَمِلَ مِنَ الْحَسَنَاتِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اس وقت رمضان کا چاند نظر آ گیا تھا آپ نے فرمایا : ” اگر بندوں کو یہ پتہ چل جائے کہ رمضان میں ( کیا اجر و ثواب اور فضیلت ) ہوتی ہے ، تو میری امت یہ آرزو کرے کہ پورا سال رمضان رہے خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : آپ ہمیں اس کے بارے میں بتائیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رمضان کے لئے جنت سال کے آغاز سے لے کے اگلے سال تک آراستہ ہوتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب رمضان کا پہلا دن آتا ہے ، تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے ، جس کی وجہ سے جنت کے پتے ملتے ہیں حورعین ان کی طرف دیکھتی ہیں اور کہتی ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اس مہینے میں تو اپنے بندوں میں سے ہمارے لئے شوہر مقرر کر دے جن کے ذریعے آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہمارے ذریعے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو جو بھی بندہ رمضان کے روزے رکھتا ہے اس کی شادی حورعین سے تعلق رکھنے والی ایک بیوی کے ساتھ کر دی جاتی ہے ، جو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے خیمے کے اندر موجود ہوتی ہے ، جس کی صفت اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان کی ہے : ” وہ حوریں جو خیموں میں پردہ نشین ہیں“ ۔ ان میں سے ہر ایک نے ستر حلے پہنے ہوئے ہوتے ہیں جن میں سے کسی ایک حلے کا رنگ دوسرے سے ملتا نہیں ہے ، اور اسے ستر مختلف قسم کی خوشبو دی گئی ہوتی ہے کہ ایک خوشبو کسی دوسری سے نہیں ملتی ہے ، ان میں سے ہر ایک عورت کے لئے ستر پلنگ ہوتے ہیں جو سرخ یاقوت سے بنے ہوتے ہیں اور قیمتی پتھروں سے آراستہ ہوتے ہیں ہر پلنگ پر ستر پچھونے ہوتے ہیں جن کا استر ، استبرق کا ہوتا ہے ، اور ستر بچھونوں کے اوپر ستر تکیے ہوتے ہیں ان میں سے ہر عورت کے ستر ہزار ملازمین ہوتے ہیں جو اس کے کام کاج کے لئے مخصوص ہوتے ہیں اور ستر ہزار ملازمین میں سے ہر ایک ملازم کے پاس سونے کا بنا ہوا پیالہ ہوتا ہے ، جن میں سے ہر ایک میں مختلف قسم کا کھانا ہوتا ہے ، اور وہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اس کے آخری ( یا دوسرے ) لقے میں وہ لذت پاتا ہے ، جو اس سے پہلے میں نہیں ملی ہوتی اور اس کے شوہر کو بھی سرخ یاقوت کے پلنگ دیے جاتے ہیں اور اس کے شوہر کو سونے کے بنے ہوئے کنگن پہنائے جائیں گے جو سرخ یاقوت سے سجے ہوئے ہوں گے اور ایسا اس شخص کے لئے ہوتا ہے ، جس نے رمضان کے روزے رکھے ہوں ، اس کے علاوہ جو اس نے نیکیاں کی ہوں گی وہ اس کے علاوہ ہیں“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصيام / حدیث: 4781
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (5273)»